سیّارہ عطارد جسے معلم الفلک کے نام سےمنسوب کیا جاتا ہے۔ انسانی دماغ اور اس کی تعلیم و تربیت سے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ یہ سیّارہ ذوجسدین ہے، نہ ہی نحس اور نہ ہی سعد جب کسی سعد سیّارہ کے ہمراہ ہوتا ہے تو سعادت جذب کر لیتا ہے۔ جب کسی نحس سیّارہ کے ہمراہ ہوتا ہے تو نحس ہو جاتا ہے۔ دائرۃ البروج جوزا اور سنبلہ کا حاکم مانا گیا ہے۔ جوزا اس کا ذاتی برج ہے جبکہ سنبلہ ثانوی برج ہے۔ برج سنبلہ کے 15 درجہ پر اس کو شرف ہوتا ہے۔ اس وقت ترقی حافظ و دماغ، دماغی امراض سے نجات، امتحانات تحریر ی یا تقریری شرفِ عطارد کی بہت خوبیاں ہیں، یہ ان تمام اُمور سے متعلق ہے جو حصولِ علم، قوی الحافظہ ہونے، کامیابی امتحان، قوت فصاحت و بلاغت کے لیے ہوتے ہیں۔
یہ ستارہ نطق سے متعلق ہے اس لیے نطق کی تمام قوتوں کو قوی کرتا ہے تمام اہل قلم شاعر و ادیب، مصنف، پروفیسر، ٹیچر اس کے ماتحت ہیں۔ یہ اُن امراض کے علاج سے متعلق بھی ہے جو مالیخولیا، صرع، فاتر العقلی اور بچوں کے خواب یا بیداری میں ڈرنے کے متعلق ہیں یعنی عقل و فہم کی ان خرابیوں کو دور کرتا ہے جن سے انسان ناکارہ ہو جاتا ہے۔ یہ ذرائع نقل و حرکت اور نشریات سے متعلق ہے۔ لہٰذا وہ تمام لوگ جو ڈرائیور ہیں، سفر کرتے ہیں، جیسے ٹرین کے گارڈ، پائلٹ، ریڈیو ٹی وی سے متعلق لوگ ہوئے اور سمندری جہازوں سے متعلق لوگ وغیرہ وغیرہ
ان تمام لوگوں کو گر اپنے آپ کا تحفظ اور ترقی و شہرت، کارکردگی کی ضرورت ہو تو اس وقت سے فائدہ اُٹھائیں ان کاموں سے مستقل فائدہ کو قائم کرنے کے لیے عطاردی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمل عطارد مندرجہ بالا تمام امور کے موافق ہونے کے علاوہ حصول ملازمت یا حصول مقام خاص پر بھی اس لوح کا اثر دخل ہے۔ مشہور ہے کہ نظام الملک نے وہ مقام حاصل کرنا چاہا جو حسن سناک کا تھا۔ جب حکومت میں اس کا نام لیا جانے لگا تو نظام الملک بہت مضطرب ہوئے اور مولانا عبدالکریم ویلمی کے پاس آئے، جفر میں وہ بہت مشہور تھے، اُن سے اپنا مدعا بیان کیا۔ چنانچہ لوح چاندہ کی تیار کر کے دی۔ جس کی برکت سے نظام الملک کو وہ مقام ملا جو تاریخ میں اب تک مشہور ہے۔ نظام الملک نے فتح پائی اور حسن سناک باوجود حق رکھنے کے محروم رہا۔ اس لوح کے اِرد گرد وہ الفاظ لکھنے چاہیے، جو مخالف کے نام بمعہ والدہ میں حروف صوامت کی تکسیر کرنے سے پیدا ہوئے ہوں، اس لوح کو طالب اپنے بازوئے راست پر باندھے۔
میر شمس الدین علی وزیر اصفہانی کے خلاف کچھ لوگ ہوئے۔ اُنہوں نے بادشاہ سے شکایت کر دی کہ یہ خزانہ عامرہ میں مال سے خرد برد کرتا ہے۔ مہدی قلی میر اور مولانا مظفر منجم شیخ بہائو الدین کے پہنچے کے اس وقت میر شمس الدین علی کی مدد کریں۔ وہ عتاب میں آیا ہے، خزانہ میں تو کسی بھی چیز کی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ شیخ بہائو الدین نے کمال شفقت کی اور لوح عطارد تیار کی جس کی وجہ سے محاسباں کے دل سرد ہو گئے اور وہ کچھ غلطی نہ نکال سکے، نہ خلاف کچھ کہہ سکے تو شیخ بہائو الدین نے مخالف کے نام کے ساتھ حروفِ صوامت کے امتزاج حروف لکھے۔ مقصود اس حکایت کا یہ ہے کہ اگر مظلوم پر ظلم ہو رہا ہے یا کوئی ظالم کے ہاتھوں لاچار ہے اور وہ اسے معاف کرنے کے لیے تیار نہیں یا کسی شخص کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے اور وہ اسی مقام کو حاصل کرنا چاہیے تو لوح عطارد اپنے پاس رکھے۔ اول نام معہ والدہ طالب کا لکھیں، پھر اسم المعز المجید کو لکھیں، پھر افسر کا نام معہ عہدہ لکھیں، اب ایک سطر میں فرداً فرداً تمام حروف کو لکھ کر صدر مؤخر کریں۔ اس کے بعد افسر کا نام معہ عہدہ لکھ کر اُس کو حروف صوامت (ا ح د ر س ص ط ع ک ل م و ہ) میں امتزاج دیں، یعنی ایک حرف کا نام لیں۔ ایک صوامت کا لیں، اس سے نئی سطر کے حروف جفت ہوں تو چار چار کلمات بنائیں۔ طاق ہوں تو پانچ پانچ کے کلمات بنائیں اور اُن کو نقش کے چاروں طرف ایک ایک بار لکھ دیں۔ اب چاروں طرف درمیان میں اسماء لکھ دیں۔ (1) یا طھیال (2) یا مکیال (3) یا اصبائوث (4) یا اھیا اس کے بعد چاروں مؤکلات لکھے نحوست عطارد اور اس کا تدارک۔ اگر کسی کے زائچہ پیدائش میں کمزور و نحس حالت میں واقع ہو تو منسوبات عطارد کے تحت حامل کو نقصان رہتا ہے۔ نحوست سے محفوظ رہنا مطلوب ہو تو ذیل طلسم کو شرف یا اوجِ عطارد کے اوقات میں کندہ کر کے پاس رکھیں، نحوستِ عطارد زائل ہو گا
طلسم عطارد کا یہ ہے
چال مسدس کی یہ ہے:
اصل نقش یہ ہے:
بحق یا عز یا مجید تسنیم بنت زید کو عروج و کامیابی عطا فرما
حصولِ علم: علم مکمل کرنے اور اُس کے حصول کا ذریعہ بنانے اور کُند ذہنی کو دور کرنے لیے ذیل کی لوح کا نقش تیار کریں اور پاس رکھیں۔ جو لوگ ملازم یافتہ ہوں کہ اُن کی ملازمت صدا رہے اور ترقی پانے کے لیے بھی نقش ہمیشہ پاس رکھنا چاہیے۔
اس نقش کے نیچے اللھم اجعل لی نی قلبی نورا و بصر اونھا ما و علما انک کل شیٔ قدیر، کامیابی امتحان کے لیے تئوتی الملک من تشاء کا مربع نقش آتشی چال کا بنائیں اسکے اعداد 179 ہیں، نیچے یہ لکھیں۔ رب یسر ولا تعسر و تعم بالخیریہ نقش کسی بھی مقابلہ کے امتحان میں مدد دے گا۔








