Pakistan and World by Shah Zanjani

زمانے پہ زمانے تیزی سے بدلتے جا رہے ہیں۔ علم النجوم علم الجفر علم الاعداد کے ماہرین سے عوام و خواص آئندہ آنے والے زمانے کی پیش گوئیاں توقع کر رہے ہوتے ہیں۔ زنجانی جنتری 2020 تا 2025ء ہم مسلسل عالمی نقشہ عالم اسلام اور تیسری عالمگیر جنگ کے آسمانی کونسل پر ستاروں کی نشست کو دیکھتے ہوئے خدشات کا اظہار کرتے چلے آرہے تھے۔

عالم اسلام پاکستان اور تیسری عالمگیر جنگ


اور پھر دُنیا نے پاکستان v/s بھارت کے مقدر میں 06 مئی اور ایران v/s امریکہ کے مقدر میں 23 جون کی تواریخ لکھ دیں۔ عالمی سیاست و میڈیا پر پاکستان اور ایران کو خداوند تعالیٰ نے صدقہ محمدؐ و آلِ محمدؐ عزت و توقیر سے نوازا اور فضاء میں نعرہ حیدری بلند ہوا۔ ایڈیٹر ماہنامہ آئینہ قسمت شہزادہ سیّد مصّور علی زنجانی نے ٹی وی چینل لاہور رنگ میں اپنے لائیو پروگرام میں مورخہ 15 جون ایران امریکہ جنگ میں ستاروں کی روشنی اور 1400 سال قبل عید مباہلہ کی مناسبت سے ایران کی فتح اور امریکہ (عیسائیوں) سپر پاور کی ہار کی پیش گوئی کر دی جو درست ثابت ہوئی اِس کے قبل قطب آن لائن (بلال قطب صاحب) کے پروگرام میں پاکستان انڈیا کی جنگ سے قبل پیشگوئی کی کہ جنگ محدود ہوگی اور پاکستان کو عزت ملے گی۔ ہم شہزادہ سیّد مصّور علی زنجانی کو انکی درست پیش گوئی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
1971ء اور 2025ء دونوں کا مفرد نمبر9 بنتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر میں پُر جوش کہا کہ ہم نے 1971ء کا بدلہ 2025ء میں لے لیا ہے۔یقیناً افواج پاکستان قومی ہمت و حوصلہ عسکری مضبوطی اور فتوحات کی پیش گوئی ہم زنجانی جنتری 2025ء میں کر چکے تھے۔ (زنجانی جنتری 2025ء اکتوبر 2024ء میں مارکیٹ میں آچکی تھی) قارئین آئینہ قسمت سوشل میڈیا کے ناظرین زنجانی جنتری 2025ء PDF فائنل مفت منگوانا چاہیں تو فون نمبر 0300-9483758 پر واٹس اَپ کرکے یا پھر ہماری ویب سائیٹ www.aienaeqismat.com سے لوڈ بھی کر سکتے ہیں۔ مکتبہ آئینہ قسمت کی روحانی آسٹرالوجی عملیاتی کتب بھی یہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ہر ماہ کا آئینہ قسمت بھی دستیاب ہوتا ہے۔

image 20

میں نے امریکہ میں کیا دیکھا

28 مئی تا 25 جون میں سفر امریکہ پر تھا۔ میری زندگی کا یہ سفر اپنے اندر روحانی دُنیاوی اسرار و رموز کچھ نئے مشاہدات اور وطن عزیز پاکستان کی عالمی سطح پر خصوصاً امریکہ میں عزت و توقیر جاننے کا سفر ثابت ہوا۔ میں تب وہیں تھا جب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب نے عوامی تقریب سے خطاب فرمایا۔
پاکستانی ایمبیسی اور محبت وطن سوشل رہنما ہمارے ہر دل عزیز دوست سجاد بلوچ صاحب نے اس تقریب کا اہتمام کیا۔ فیلڈ مارشل نے پاک بھارت جنگ کا پُر جوش لہجہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ دوران جنگ ہم سے میزائلوں کا ایک ٹارگٹ غلط فیڈ ہو گیا۔ جبکہ یہ 35 کلو میٹر پہلے نشانہ کا تھا۔ قدرت نے اس غلط ٹارگٹ کو بھی پہلے سے بڑے گولہ بارود کے ٹارگٹ کو نشانہ بنایا جس سے دشمن کا بھاری نقصان ہوا یوں محسوس ہوا جیسے قدرت نے ہماری مدد کی۔ سات لاکھ مسلح افواج پاکستان کے ایک ایک انچ دفاع کی صلاحیت رکھتی تب سجاد بلوچ صاحب نے یہ نعرہ لگایا کہ 25 کروڑ عوام ہم سب آپ کے سپاہی ہیں۔ ہال نعرہ تکبیر نعرہ حیدری اور تالیوں سے گونج اُٹھا۔ دوران سفر مجھے ہیوسٹن (TX) نیو یارک (NY) اور نیو جرسی (NJ) سفر اور دوستوں اور انکی فیملیز سے ملاقات ہوئی۔ جبکہ میرا مرکزی قیام واشنگٹن DC لیز برگ میں جناب مسٹر اینڈ مسز طارق صاحب برادر نسبتی کے ہاں تھا۔ ہیوسٹن میں مسٹر اینڈ مسز بلال اور مسٹر اینڈ مسز کامران صاحب کے ہاں رہا۔ لوکل ریڈیو ینگ ترنگ کی آپا سیّدہ زہرا اور ان کے شوہر سہیل سیّدصاحب نے میرا انٹرویو ریکارڈ کیا جو مقامی ریڈیو پر نشر ہوا۔ امام بارگاہ درِ عباس ہیوسٹن ایڈووکیٹ ملک اعجاز صاحب نے میرے اعزاز میں دعوت پر عید غدیر کے موقع پر تقریباً سو (100) کے قریب مومنین سے ملاقات ہوئی۔ نیویارک مسٹر اینڈ مسز چوہدری شفقت مالک ایلبٹ کیب سروسز اور سائونڈ نیٹ ورک کے مالک دیرینہ عقیدت مند اشونی گپتا فیملی جناب فیاض اور نیو جرسی بچپن کے دوست مسٹر اینڈ مسز ایوب کیوان اور انکی فیملی کے ساتھ فادر ڈے کی دعوت و تقریب کا روحانی لطف اُٹھایا۔
نیو جرسی سے مسٹر اینڈ مسز سید فرحان

image 22

رضوی کی محبت دعوت اور تحائف کی شکریہ کے ساتھ وصولی کے ساتھ بائی ٹرین نیو جرسی تا واشنگٹن DC آمد ہوئی جب کے پہلے دونوں طویل ہوائی سفر کرکے نرالہ ریسٹورنٹ واشنگٹن میں سجاد بلوچ اور سید علی رضا زیدی نے کم و بیش بیس صحافی برادری اور دوستوں کو مدعو کرکے میرے اعزاز میں عشایہ دیا۔ واشنگٹن ڈی سی میں سید جواد برادرز نے ویلج ریسٹورنٹ میں ظہرانہ دیا اس موقعہ پر معروف روحانی شخصیت ڈاکٹر ذوالفقار کاظمی اور ہیوسٹن سے فیلڈ مارشل کی تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائی محترمہ سحر خورشید ہیوسٹن TX سے پاکستان پیپلز پارٹی کی صدر بھی موجود تھیں۔
ان سب مصروفیات کے علاوہ اصل امریکہ آمد اہلیہ کی بھانجی عزیزی نمرہ طارق کی لاء گریجویشن کی مبارکباد تھی۔ پاک بھارت جنگ فلائٹ بند ہونے پر پاکستان سے سفر امریکہ میں پندرہ دن کی تاخیر اور پھر واپسی پر 23 جون ایران پر امریکہ بیس (قطر) پر حملہ سے واپسی پر بھی بذریعہ قطر ائیرویز دو دن کا سفر تین دن میں مکمل ہوا۔ ہماری کراچی کی بہن ڈاکٹر عاصمہ اور انکے شوہر ڈاکٹر کرنل ارشد بمعہ اپنی تینوں بیٹیاں کے میکلین (واشنگٹن) شفٹ ہو چکی انہوں نے امریکہ پہنچتے ہی خوش آمدید کیا نہ صرف اپنے گھر سے پیک اینڈ ڈراپ سروس سے اپنے نئے گھر میں بلا کر عمدہ ضیافت اور تحائف دیئے۔ سفر امریکہ کی داستان کو ہم داستان امیر حمزہ کی طرح بھی پیش کر سکتے ہیں۔ مگر ماہنامہ آئینہ قسمت کے مختصر صفات اس کے متحمل نہیں امریکہ جہاں بھی گیا پاکستانیوں کو اپنا سر فخر سے بلند کرتے دیکھا۔ فی زمانہ امریکہ میں پاکستان کی عزت و توقیر قدرت نے بزبان امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑھا دی ہے۔ دُنیا بھر میں آج پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ ہمیں بھی بحیثیت قوم اپنی عزت کو قائم رکھنے کے لئے جذبہ ایثار قربانی سے کوشش کرتے رہنا ہوگا۔ سفر امریکہ پر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں۔ تین عالمی شخصیات ٹرمپ، مودی، نیتن یاہو دُنیا کے امن کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ عالمی جنگ میں 100% خرچہ جبکہ عالمی امن 5% بھی خرچ کیا جائے تو امن قائم ہو سکتا ہے۔ ایک عالمی رپورٹ بھی جان کر آپ خود فیصلہ کریں۔

image 23

ماسکو کے چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست شائع کی ہے، جن پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکا نے بمباری کی:جاپان: 6 اور 9 اگست 1945کوریا اور چین: 1953-1950(جنگِ کوریا)گواتی مالا: 1954، 1960، 1969-1967انڈونیشیا: 1958کیوبا: 1961-1959کانگو: 1964لاؤس: 1973-1964ویتنام: 1973-1961کمبوڈیا: 1970-1969گریناڈا: 1983 لبنان: 1983، 1984 (لبنان اور شام میں اہداف پر حملے)لیبیا: 1986، 2011، 2015ایل سلواڈور: 1980نکاراگوا: 1980ایران: 1987پاناما: 1989عراق: 1991 (خلیجی جنگ)، 2003-1991 (امریکی و برطانوی حملے)، 2015-2003 کویت: 1991صومالیہ: 1993، 2008-2007، 2011بوسنیا: 1994، 1995سوڈان: 1998افغانستان: 1998، 2015-2001 یوگوسلاویہ: 1999یمن: 2002، 2009، 2011، 2024، 2025پاکستان: 2015-2007شام: 2015-2014یہ فہرست تقریباً 30 ممالک پر مشتمل ہے۔
چین نے زور دیا ہے کہ “ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے لیے اصل خطرہ کون ہے۔”پھر سوال اُٹھتا ہے: کیا کبھی مغربی معاشرے نے امریکا پر برہمی ظاہر کی؟کیا کبھی اس کے خلاف زوردار آوازیں بلند ہوئیں؟کیا کسی ایک بار بھی امریکا پر پابندیاں عائد ہوئیں؟یہ پورا دنیاوی نظام، جسے ہم “بین الاقوامی برادری” کہتے ہیں، خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے، جبکہ امریکا دنیا بھر کے ممالک پر ڈاکوؤں کی طرح حملہ آور ہو کر ان کے خوابوں کو بھی خوفناک کابوس میں بدل دیتا ہے۔نہ کوئی مذمت، نہ کوئی سرزنش، نہ کسی قسم کی ناراضگی۔ایک بزدل، بے شرم، اور منافق عالمی ضمیر۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس فہرست کو ہر ممکن پلیٹ فارم پر بار بار نشر کیا جائے۔ ایسی ویڈیوز بنائی جائیں جو ان تمام مغربی منافقوں کو بے نقاب کریں اور امریکا کے ہاتھوں دنیا بھر میں ہونے والے جرائم کی ہر حقیقت یاد دلاتی رہیں۔چینی سفارتخانے کی جانب سے یہ فہرست سفارتِ چین برائے روس (ماسکو) نے ایک سیاسی اور اخلاقی پیغام کے طور پر اُس وقت جاری کی، جب عالمی میڈیا اور مغربی ممالک ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کی شدید مذمت کر رہے تھے، لیکن خود امریکا کے ماضی کو مکمل نظرانداز کیا جا رہا تھا۔یہ فہرست اس دوہرے معیار (double standards) کو بے نقاب کرنے کے لیے شائع کی گئی، جو امریکا اور مغرب انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی سلامتی کے معاملات میں اپناتے ہیں۔جب ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا تو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ایران کو “عالمی خطرہ” قرار دینا شروع کر دیا۔ چینی سفارتخانے نے اس تنقیدی مہم کے جواب میں یہ فہرست جاری کی تاکہ یاد دلایا جا سکے کہ حقیقی خطرہ وہ ملک ہے جس نے جنگِ عظیم دوم کے بعد 30 سے زائد ممالک پر بمباری کی ہے۔چین کا موقف ہے کہ امریکا کسی بھی اخلاقی مقام سے بات کرنے کے اہل نہیں، کیونکہ خود اس کا ماضی اور حال انسانی حقوق کی پامالیوں اور عالمی جارحیت سے بھرا پڑا ہے۔چین نے اس فہرست کو جاری کر کے ایک وسیع تر پیغام دیا:”دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ کون اصل خطرہ ہے۔ مغربی میڈیا اور حکومتیں منافقت سے کام لیتے ہیں، اور جب امریکا قتل عام کرتا ہے تو وہ خاموش رہتے ہیں۔”یہ اقدام صرف سفارتی یا معلوماتی نہیں، بلکہ سیاسی جواب اور اخلاقی چارج شیٹ بھی ہے امریکا اور اس کے

image 24

اتحادیوں کی جانب سے جاری یک طرفہ بیانیے کے خلاف۔

Facebook
YouTube
WhatsApp
TikTok

Get your personal Horoscope

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

https://aienaeqismat.com/wp-content/uploads/2018/02/dark_bottom_divider.png