Sharf e Shams 2025 ka Nqash | Sharf e Shams ki Loh

https://aienaeqismat.com/wp-content/uploads/2025/04/-شہرت،-عظمت-و-تسخیر-png.webp

جب آفتاب برج حمل میں حرکت کرتا ہوا 19 درجہ پر پہنچتا ہے تو اسے شرف کی طاقت حاصل ہوتی ہے۔ شمس کو سیّارگان فلکی میں شہنشاہ کا مقام حاصل ہے۔ اس لیے فلکی اثرات کے لحاظ سے ایک پُرتاثیر اور بلند ترین وقت ہوتا ہے۔ اس کی طاقتور نورانی شعاعیں زمین پر ڈالتی ہیں۔ چنانچہ ان کی تاثیر مخصوص عملیات میں مخصوص الفاظ، آیات اور اسماء الٰہیہ کے ذریعے مخصوص اشکال میں ماہرین نجوم و جفر منتقل کر لیتے ہیں اور وہ طلسم یا شکل جب اس مخصوص وقت میں مخصوص چیز یا دھات پر اُبھرے گی تو اس کو (حامل لوح) یعنی جس کے پاس ہو گی، ترقی عروج اور بلند مرتبہ پر پہنچنے کے لیے اسباب پیدا کرے گی۔ اسی لیے شمس کا شرف عاملین اور خصوصاً جفار حضرات کے لیے خصوصی اہمیت اور توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ لہٰذا عامل اور جفار حضرات اس موقع کی مناسبت سے ایسے سریع الاثر عملیات تیار کرتے ہیں اور جو تسخیر الخلائق جاہ و مرتبت، ترقی عدہ اور عوام الناس میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے خصوصاً سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں، اُن کے لیے یہ خواہشات کی تکمیل کا مضبوط سہارا ہے۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے یہاں اس سے مراد عاملین اور اولیاء امت ہیں جو نجوم و جفر میں کامل و اکمل تھے۔ قدیم زمانے میں بادشاہ، وزراء اور امراء حکومت وقت میں مراعات اور عہدے حاصل کرنے کے لیے عالمانِ جفر سے مدد لیا کرتے تھے۔ یہ مدد شرفِ شمس کی الواح کی صورت میں ہوتی تھی۔ ایسے عملیات غریب لوگوں کی بساط سے باہر ہوتے تھے۔ اگرچہ اب بھی بعض حکام کاروباری لوگ اپنے لیے شرفِ شمس کا طلسم تیار کرتے ہیں جو بقائے ملازمت اور دبدبہ و اقتدار کا کام دیتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں تاجر، ملازمین اور ڈاکٹر، سیاسی لیڈر، وزراء کے علاوہ ایسے مقتدر عہدوں کے حامل افراد جو حکومت وقت کے عتاب کا شکار ہو کر او ایس ڈی بنا کر کھڈے لائن کر دیے گئے ہوں، وہ اور علاوہ دوسرے لوگ بھی اس مبارک اور طاقتور ترین مؤثر وقت کی روحانیت سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ مزید عرض ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عہدہ پر کئی سال سے تعینات ہے مگر اس کو ترقی نہیں ملتی، حالانکہ وہ اس کا حق دار ہے یا حصولِ ملازمت میں افسران اس کی طرف توجہ نہیں دیتے، کسی کا حق مارا گیا ہے، کوئی شخص معاشرہ میں دوست احباب میں حقیر اور بے اعتبار سمجھا جاتا ہے تو اس کو شرفِ شمس کی لوح کی برکت سے ترقی ملے گی، ملازمت میں جائز مقام ملے گا، افسران توجہ کریں گے، حق واپس ملے گا، عزت ملے گی، مقام ملے گا، لوگ اعتبار کریں گے، بات سنیں گے بھی اور مانیں گے۔ اور ہاں کوئی شخص اکابرین حکومت میں سے ہے اور حکومت میں اُسے کوئی مطلوبہ مقام حاصل نہیں تو وہ مقام، عزت اور مرتبہ حاصل کر لے گا۔ تمام حکام، شرفاء، داعیانِ زمان اس کے مطیع اور فرمانبردار ہوں گے اور اس کے حکم سے تجاوز نہ کریں گے اور نہ سختی، تندی، ترش مزاجی اور متکبرانہ رویہ اپنائیں گے۔ طلب جاہ و حشمت طالبوں کو نصیب ہو گی، اگر کوئی چاہے کہ جس عہدہ پر فائز ہے، اُسے کوئی ناجائز اور غلط طریقے سے اپنا کر چھین نہ لے اور نہ اس جگہ سے تبدیل کر سکے، تو انشاء اللہ وہ اُسی عہدہ پر عزت و وقار سے قائم و دائم رہے گا یا جس کا کام یا ٹھیکے کو کر رہا ہے، وہ واپس نہ ہو اور عظمت و جلال قائم ہے تو اُس کی خواہش پوری ہو گی۔
غرض جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ شمس تمام کواکب میں شہنشاہ کا مقام رکھتا ہے اور تمام کواکب اس کے گرد گردش کرتے رہتے ہیں۔ پس اُس کی روحانیت حسب مراتب ہر شخص کو حاصل ہو گی۔ جس بھی فرد کے پاس شرفِ شمس کا طلسم یا لوح ہو گی، اس کے لیے یہ لوح ایک نعمت سے کم نہ ہو گی۔ موجودہ مخدوش بے رحم ظالم اور اندیشہ زیاں مال و دولت کے دور میں ہر شخص کے پاس ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو وہ ہر آفت سے نہ صرف بچا رہے گا، بلکہ مراتب و درجات اور ترقی حاصل کر لے گا اور عزت پائے گا۔
الگ کمرہ میں صاف پاک سرخ کپڑا یا جائے نماز بچھا کر بیٹھیں۔ رجال الغیب کا خیال رکھیں، زعفران صندل سرخ اور عود کا بخور سلگائیں۔ آج کل تو سیوان ان ون اگر بتیاںملتی ہیں، اپنے کپڑوں پر عطر گلاب لگائیں، جب ساعت شروع ہو تو لوح کندہ کریں۔ کاغذ ہو تو زعفران سے نقش لکھ لیں، شمس کی منسوبہ دھات سونا (Gold) ہے۔ صاحب حیثیت لوگوں کو چاہیے کہ وہ سونے پر بنوائیں۔ یہ سونا ضائع نہیں ہوتا،جب چاہیں اس کو استعمال میں لاسکتے ہیں۔ اگر پہنیں تو چاندی پر بنوا کر سونے کا پانی اُوپر چڑھا لیں۔ سنہرا کاغذ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کاغذ کی لوح اور دھات کی لوح میں تاثیر تویکساں ہو گی، مگر فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ دھات سریع الاثر ہے اور کاغذ سست الاثر ہے۔
اس دفعہ شرفِ شمس کے موقع پر جو عمل پیش کر رہا ہوں، یہ علم جفر کا ایک انمول موتی ہے۔ یہ عمل خاص صرف اور صرف واسطے عروج و ترقی، رزق و فتوحات کے لیے سریع الاثر اور سریع الاجابت ہے۔ اس کا طریقہ تفصیلی لکھ رہا ہوں، خوب غور کریں، سمجھیں اور تیار کر کے فائدہ اُٹھائیں، بہت فائدہ ہو گا۔
(i) نام معہ والدہ کے اعداد لیں: ۱۱۳۴
سورۃ الشمس کے اعداد: ۱۹۴۹۹
سات انبیاء کے اعداد: ۲۶۸۹
۲۳۳۲۲ – ۲۲ = ۲۳۳ ÷ ۴ = ۵۸۲۵

image 7 png


(ii) اعداد اسم با الہ الا لھۃ الرفیع الجلالہ: ۹۷۴
سات شاہان کے اعداد: ۴۵۴۷
مقصد : تسخیر و جاہ و مرتبت: ۲۳۳۳
۷۸۵۴
– ۲۲
۷۸۳۲ ÷ ۴ = ۱۹۵۸

image 8 png


اعداد نمبر 1 نقش نمبر 1 میں پُر ہوں گے اور اعداد نمبر (ii) خاتم سلیمانی میں پُر ہوں گے۔ ایک طرف لوح کے نقش نمبر (i) اور دوسری طرف خاتم سلیمانی بنے گی۔ پہلے نقش کے چاروں طرف نام معہ والدہ + اسم اعظم اور مقصد الگ سطر میں لکھ کر ان کو امتزاج دیا جائے گا۔ حروف طاق ہونے کی صورت میں پانچ پانچ اور جفت ہوں تو چار چار حروف کے طلسم بنائیں اور آئیل کا اضافہ کر کے مؤکلات بنائیں، پھر ھوش لگا کر اعوان بنائیں۔ اعداد کے مطابق اسماء الٰہیہ بنا کر لکھیں اور حصار سے بند کریں۔ خاتم سلیمانی کے نیچے طلسم شمس اور عزیمت لکھیں۔
میں نے جو نقش لکھا ہے یہ آپ کو پہلی دفعہ نظر آئے گا۔ یاد رہے مثلث کے نو خانے اور مجموعہ اعداد پندرہ جبکہ مربع سولہ خانے اور مجموعہ اعداد چونتیس ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان بھی ایک نقش ہے جس کی دو چالیں ہیں۔ بشکل مثلث اور بشکل مربع دونوں طرح سے خانے (12) اور مجموعہ اعداد چھبیس (26) ہوتا ہے۔ نقش چال نمبر 1 مربع کہلاتاہے اور خاتم سلیمانی مثلث کہلاتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ مجموعہ اعداد سے 22 عدد طرح کریں اور چار پر تقسیم کریں اور خارج قسمت کو خانہ اول میں رکھ کر ایک ایک کے اضافہ سے پُر کریں۔ اگر بقایا بچے ایک تو خانہ 12، 2 بچے تو خانہ 7 اور 3 بچے تو خانہ 2 میں ایک کا اضافہ کرو۔ اس نقش کے بہت فوائد ہیں۔ مصنف مائتہ الغائد قلمی نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔ میں نے اِسے مختلف مواقع پر آزمایا، نیک مقاصد میں تجربہ کی کسوٹی پر اُمید سے بھی زیادہ مفید پایا۔ آپ بھی آزمائیں اور مصنف و مؤلف مرحوم کی علمی کاوش کی داد دیں اور اُس کے درجات میں بلندی کی دعا کریں۔ میں مؤکلات وغیرہ استخراج کر کے نہیں لکھ رہا، خواہ و مخواہ صفحات ضائع ہوں گے، آسان کام ہے، خود کر لیں۔ اب دونوں نقوش پُر کر رہا ہوں۔
میں نے جو نقش لکھا ہے یہ آپ کو پہلی دفعہ نظر آئے گا۔ یاد رہے مثلث کے نو خانے اور مجموعہ اعداد پندرہ جبکہ مربع سولہ خانے اور مجموعہ اعداد چونتیس ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان بھی ایک نقش ہے جس کی دو چالیں ہیں۔ بشکل مثلث اور بشکل مربع دونوں طرح سے خانے (12) اور مجموعہ اعداد چھبیس (26) ہوتا ہے۔ نقش چال نمبر 1 مربع کہلاتاہے اور خاتم سلیمانی مثلث کہلاتی ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ مجموعہ اعداد سے 22 عدد طرح کریں اور چار پر تقسیم کریں اور خارج قسمت کو خانہ اول میں رکھ کر ایک ایک کے اضافہ سے پُر کریں۔ اگر بقایا بچے ایک تو خانہ 12، 2 بچے تو خانہ 7 اور 3 بچے تو خانہ 2 میں ایک کا اضافہ کرو۔
اس نقش کے بہت فوائد ہیں۔ مصنف مائتہ الغائد قلمی نے اس کی بہت تعریف کی ہے۔ میں نے اِسے مختلف مواقع پر آزمایا، نیک مقاصد میں تجربہ کی کسوٹی پر اُمید سے بھی زیادہ مفید پایا۔ آپ بھی آزمائیں اور مصنف و مؤلف مرحوم کی علمی کاوش کی داد دیں اور اُس کے درجات میں بلندی کی دعا کریں۔ میں مؤکلات وغیرہ استخراج کر کے نہیں لکھ رہا، خواہ و مخواہ صفحات ضائع ہوں گے، آسان کام ہے، خود کر لیں۔ اب دونوں نقوش پُر کر رہا ہوں۔

image 9 png



جب لوح مکمل ہو جائے تو سرخ ریشمی کپڑے میں سرخ دھاگے سے سی لیں۔ اگلے دن کسی ایسے مقام پر چلے جائیں جہاں سے طلوع ہوتے ہوئے سورج کا نظارہ کر سکیں۔ سورۃ شمس پڑھنا شروع کر دیں تو

قرآن کریم دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ جب سورج مشرق سے اُبھرتا نظر آئے تو سورۃ کی تلاوت ختم کر دیں اور لوح کو ہاتھ میں لے کر دعا کریں کہ:”اے خداوند دو عالم! اے مکرم و طاہر! اس نیّر اعظم کی طرح مجھے سربلندی عزت و اوللعز می عطا فرما۔ جس طرح یہ کائنات کے لیے منبع فیض و نور ہے، اسی طرح مجھے بھی بنا دے۔ تمام خلقت میں مجھے باعزت بنا اور خلقت کو مطیع و فرمانبردار بنا۔ آمین
اس دعا کو پڑھ کر لوح اپنے پاس رکھ لیں۔ انشاء اللہ بہت جلد فتوحات حاصل ہوں گی اور یہ فیض اس وقت تک ملتا رہے گا، جب تک لوح پاس رہے گی۔

Get your personal Horoscope


↓↓↓اس باکس میں اپنا ای-میل لکھیں، تا کہ ہر رسالہ او

Recommended products

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

https://aienaeqismat.com/wp-content/uploads/2018/02/dark_bottom_divider.png